سلطان محمد فاتح جو کہ سلطنتِ عثمانیہ کا ایک بہادر سلطان مانا جاتا ہے، سلطان محمد فاتح کم عمری میں ہی یعنی 12 سال کی عمر میں تخت پر بیٹھے۔
سلطان محمد فاتح سلطنت عثمانیہ کے شہر 1432 کو ایڈرن میں پیدا ہوئے، سلطان محمد فاتح کو بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ کو فتح کرنے کا خواب وراثت میں ملا۔
محمد فاتح نے بچپن ہی سے بہاری کا مظاہرہ کیا اور فوجی قیادت کا تجربہ حاصل کیا۔ تاہم اس کی حتمی خواہش قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی پیشنگوئی کو پورا کرنا تھا۔
ایک شہر جو اس کی مظبوط دیواروں اور تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے نا قابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ 1453 میں، 21 سال کی عمر میں محمد فاتح نے قسطنطنیہ کے تاریخی محاصرے کا آغاز کیا۔ بہت سے مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اس نے اپنے فوجیوں میں ہمت اور بہادری پیدا کیا اور انہیں ہر رکاوٹ پر قابو پانے کی ترغیب دی۔
سلطان محمد فاتح کی قیادت نے کمال حکمت عملی کا مظاہرہ کیا کیونکہ اس نے محاصرے کے لیے جدید تکنیکوں کا استعمال کیا جس میں شہر کی دیواروں کو توڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر توپیں بنانا بھی شامل تھا۔ اس نے ذاتی طور پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جنگ میں اپنی فوجوں کی قیادت کی۔ اس کی عزم نے انکی فوجیوں کو ثابت قدم رہنے کا ترغیب ملا۔
1453 میں ہی سلطان محمد فاتح کی فوج نے قسطنطنیہ کے دیواروں کا محاصرہ کرنا شروع کیا، جس کے نتیجے میں بازنطینی حکمرانی کے 1000 سال کے زائد عرصے کے بعد انکا زوال شروع ہوا اور سلطان محمد فاتح کی فوج نے کمال کی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہر فتح کر لیا۔
اس فتح کے باوجود سلطان محمد فاتح نے ہمدردی اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، اور شہر کے باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنایا اور اس کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا۔
قسطنطنیہ کی فتح نے سلطان محمد فاتح کی بہادر قیادت نے ایک عظیم فتح کا نشان چھوڑا۔ سلطان محمد فاتح کی دلیرانہ کارنامے نے نہ صرف سلطنت عثمانیہ کو وسعت دی بلکہ تاریخ کے دھارے کو بھی بدل دیا، مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج کو ختم کیا۔
قسطنطنیہ، جس کو استنبول کا نام دیا گیا جو سلطنت عثمانیہ کا متحرک دارالحکومت بن گیا۔

















.jpg)


