Saturday, March 29, 2025

سخت ترین آزمائشوں میں حضرت بلالؓ کا ایمان اور صبر


حضرت بلالؓ اسلام کے ابتدائی ماننے والوں میں سے تھے اور آپ حبشہ کے رہنے والے ایک غلام تھے۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ کے مالک امیہ بن خلف نے آپ پر سخت ظلم و ستم ڈھایا۔ انہیں مکہ کی جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تاکہ وہ اسلام سے دستبردار ہو جائیں، مگر حضرت بلالؓ کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ ہر بار وہ صبر سے کام لیتے اور صرف "احد، احد" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) پکارتے رہتے۔

B.ad

ایک دن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے امیہ بن خلف سے کہا کہ وہ حضرت بلالؓ کو آزاد کردیں اور ان کے بدلے میں جو قیمت چاہیں لے لیں۔ امیہ نے زیادہ قیمت طلب کی، مگر حضرت ابو بکرؓ نے بلا جھجک رقم دے کر حضرت بلالؓ کو آزاد کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف اسلام کی حقانیت کا ثبوت ہے بلکہ اس میں حضرت بلالؓ کی صبر و استقامت اور حضرت ابو بکرؓ کی سخاوت کی بھی جھلک ملتی ہے۔

B.ad

حضرت بلالؓ کو بعد میں نبی کریم ﷺ نے مؤذن مقرر فرمایا اور وہ قیامت تک کے لیے اسلامی تاریخ کے پہلے مؤذن کے طور پر مشہور ہوگئے۔ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت بلالؓ مدینہ میں اذان دینے سے قاصر ہوگئے کیونکہ ہر بار اذان میں "اشہد ان محمدًا رسول اللہ" کہتے ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ بعد میں حضرت بلالؓ نے شام کی طرف ہجرت کر لی اور وہیں وفات پائی۔

B.ad

یہ واقعہ حضرت بلالؓ کے ایمان، استقامت اور اللہ کے ساتھ ان کی محبت کی ایک بہترین مثال ہے۔

Tuesday, March 11, 2025

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی


حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ بچپن سے ہی نہایت حسین و جمیل اور عقل مند تھے۔ ایک دن آپ نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ جب آپ نے یہ خواب اپنے والد کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں سے نہ بتانا، کیونکہ وہ تم سے حسد کریں گے۔


B.ad

آپ کے بھائی آپ کی خوبصورتی اور والد کی محبت کی وجہ سے آپ سے جلتے تھے۔ ایک دن انہوں نے سازش کر کے آپ کو کنویں میں پھینک دیا اور والد سے جھوٹ بول دیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اللہ کی رحمت سے ایک قافلہ وہاں سے گزرا اور آپ کو کنویں سے نکال کر مصر لے گیا، جہاں آپ کو غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا۔ مصر کے عزیز (وزیر) نے آپ کو خریدا اور اپنے گھر میں رکھا۔



وقت گزرتا گیا، اور عزیزِ مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا دیا، جس کی وجہ سے آپ کو قید کر دیا گیا۔ قید میں بھی آپ نے اللہ کی عبادت جاری رکھی اور قیدیوں کو خوابوں کی تعبیر بتاتے رہے۔


B.ad

کچھ عرصے بعد، بادشاہ نے ایک خواب دیکھا، جس کی تعبیر کوئی نہ بتا سکا۔ تب حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی کہ ملک میں سات سال خوشحالی ہوگی، اس کے بعد سات سال قحط آئے گا، لہٰذا غلے کو سنبھال کر رکھیں۔ بادشاہ آپ کی حکمت سے اتنا متاثر ہوا کہ آپ کو قید سے رہا کروا کر وزیرِ خزانہ مقرر کردیا۔

Tuesday, March 4, 2025

رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کی بہادری اور شہادت کا واقع

 

ء


حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے اور اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ ان کی بہادری اور جرات کی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔


قبولِ اسلام اور بہادری کا مظاہرہ

B.ad

حضرت حمزہؓ نے اسلام اس وقت قبول کیا جب قریش کے سردار نبی کریم ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ایک دن ابو جہل نے خانہ کعبہ کے پاس نبی کریم ﷺ کو سخت تکلیف پہنچائی۔ یہ خبر حضرت حمزہؓ کو ملی جو اس وقت شکار سے واپس آ رہے تھے، ان کے کندھے پر کمان لٹکی ہوئی تھی۔ غصے سے بھرے ہوئے حضرت حمزہ سیدھے خانہ کعبہ پہنچے، ابو جہل کو تلاش کیا اور سب کے سامنے اس کے سر پر کمان ماری جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ پھر للکار کر کہا۔۔

تم محمد ﷺ کو کیوں ستاتے ہو؟ میں بھی ان کے دین پر ہوں، اگر ہمت ہے تو میرا مقابلہ کرو!


یہ اعلان سن کر قریش حیران رہ گئے، کیونکہ حضرت حمزہ قریش کے نامور جنگجو اور بہادر شخص تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھ گیا اور دشمنوں میں خوف پیدا ہو گیا۔


غزوہء بدر میں شجاعت

B.ad

غزوہء بدر میں حضرت حمزہؓ نے کمال بہادری دکھائی۔ ان کی پہچان کے لیے انہوں نے اپنی ذرہ پر شتر مرغ کا ایک پر باندھا ہوا تھا۔ وہ دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور کئی کفار کو جہنم واصل کیا۔ ان کی تلوار بجلی کی طرح چلتی تھی، اور ان کی بہادری دیکھ کر مسلمان اور بھی پُرجوش ہو گئے۔


شہادت اور بہادری کی آخری مثال

B.ad

غزوہء اُحد میں حضرت حمزہ نے کفار کے بڑے بڑے جنگجوؤں کو زیر کیا۔ لیکن افسوس کہ وحشی بن حرب نے چھپکے سے اپنی نیزہ سے حضرت حمزہ کو نشانہ بنایا اور حضرت حمزہ کو شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد بھی ان کی لاش کی بے حرمتی کی گئی، مگر ان کی بہادری اور قربانی کو تاریخ کبھی نہیں بھول سکتی۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کی شہادت کا بے حد دکھ ہوا اور آپ نے حضرت حمزہ کو "سید الشہداء" یعنی شہداء کا سردار قرار دیا۔




Saturday, March 1, 2025

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور چرواہے کی کہانی


یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے جُڑا ہوا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بندوں کی محبت اور عقیدت کے مختلف انداز سمجھائے۔


کہا جاتا ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ایک چرواہے کو اللہ سے محبت بھرے الفاظ میں باتیں کرتے ہوئے سنا۔ 


چرواہے کی باتیں



اے اللہ! اگر تُو میرے پاس ہوتا تو میں تیرا لباس دھوتا، تیرے بال سنوارتا، تیرے لیے بستر بچھاتا، اور تجھے دودھ پلاتا۔۔


یہ الفاظ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نامناسب لگے۔ آپ نے سختی سے چرواہے کو تنبیہ کی کہ یہ طریقہ اللہ سے بات کرنے کا نہیں، کیونکہ اللہ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ چرواہے کو شرمندگی ہوئی، اُس نے آہیں بھریں، اور افسوس کے ساتھ جنگل کی طرف چلا گیا۔


جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی اور کہا:


اے موسیٰ! تم نے میرے بندے کا دل توڑ دیا ہے۔ میں دلوں کے بھید جانتا ہوں۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، چاہے اس کے الفاظ سادہ اور ناسمجھ ہوں۔ میں بندوں کے دلوں کی کیفیت دیکھتا ہوں، ان کی زبانوں کی پیچیدگیاں نہیں


یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فوراً چرواہے کی تلاش میں نکلے۔ جب چرواہا ملا تو آپ نے اُسے خوش خبری دی کہ


اے اللہ کے بندے! اللہ کو آپ کی محبت بہت پسند آئی تو جس طرح چاہے اس سے بات کر، کیوں کہ اللّٰہ کو ہر عیب کی علم ہے، اللّٰہ تعالیٰ دلوں میں چھپی ہوئی محبت کو دیکھتا ہے۔


یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اصل قیمت دل کی خلوص اور محبت کی ہوتی ہے۔ الفاظ کی چمک دمک یا علم کی گہرائی اللہ کے نزدیک اتنی اہمیت نہیں جتنی دل کی پاکیزگی اور اخلاص کی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی، جدوجہد قیادت اور وفات

 ایران کی سیاست اور مذہبی قیادت کا ذکر ہو تو آیت اللہ علی خامنہ ای کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ایران کے سپریم لیڈر تھے اور ملک کے ...