یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے جُڑا ہوا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بندوں کی محبت اور عقیدت کے مختلف انداز سمجھائے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ایک چرواہے کو اللہ سے محبت بھرے الفاظ میں باتیں کرتے ہوئے سنا۔
چرواہے کی باتیں
اے اللہ! اگر تُو میرے پاس ہوتا تو میں تیرا لباس دھوتا، تیرے بال سنوارتا، تیرے لیے بستر بچھاتا، اور تجھے دودھ پلاتا۔۔
یہ الفاظ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نامناسب لگے۔ آپ نے سختی سے چرواہے کو تنبیہ کی کہ یہ طریقہ اللہ سے بات کرنے کا نہیں، کیونکہ اللہ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ چرواہے کو شرمندگی ہوئی، اُس نے آہیں بھریں، اور افسوس کے ساتھ جنگل کی طرف چلا گیا۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی اور کہا:
اے موسیٰ! تم نے میرے بندے کا دل توڑ دیا ہے۔ میں دلوں کے بھید جانتا ہوں۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، چاہے اس کے الفاظ سادہ اور ناسمجھ ہوں۔ میں بندوں کے دلوں کی کیفیت دیکھتا ہوں، ان کی زبانوں کی پیچیدگیاں نہیں
یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فوراً چرواہے کی تلاش میں نکلے۔ جب چرواہا ملا تو آپ نے اُسے خوش خبری دی کہ
اے اللہ کے بندے! اللہ کو آپ کی محبت بہت پسند آئی تو جس طرح چاہے اس سے بات کر، کیوں کہ اللّٰہ کو ہر عیب کی علم ہے، اللّٰہ تعالیٰ دلوں میں چھپی ہوئی محبت کو دیکھتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اصل قیمت دل کی خلوص اور محبت کی ہوتی ہے۔ الفاظ کی چمک دمک یا علم کی گہرائی اللہ کے نزدیک اتنی اہمیت نہیں جتنی دل کی پاکیزگی اور اخلاص کی ہے۔


No comments:
Post a Comment