حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے اور اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ ان کی بہادری اور جرات کی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔
قبولِ اسلام اور بہادری کا مظاہرہ
B.ad
حضرت حمزہؓ نے اسلام اس وقت قبول کیا جب قریش کے سردار نبی کریم ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ایک دن ابو جہل نے خانہ کعبہ کے پاس نبی کریم ﷺ کو سخت تکلیف پہنچائی۔ یہ خبر حضرت حمزہؓ کو ملی جو اس وقت شکار سے واپس آ رہے تھے، ان کے کندھے پر کمان لٹکی ہوئی تھی۔ غصے سے بھرے ہوئے حضرت حمزہ سیدھے خانہ کعبہ پہنچے، ابو جہل کو تلاش کیا اور سب کے سامنے اس کے سر پر کمان ماری جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ پھر للکار کر کہا۔۔
تم محمد ﷺ کو کیوں ستاتے ہو؟ میں بھی ان کے دین پر ہوں، اگر ہمت ہے تو میرا مقابلہ کرو!
یہ اعلان سن کر قریش حیران رہ گئے، کیونکہ حضرت حمزہ قریش کے نامور جنگجو اور بہادر شخص تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھ گیا اور دشمنوں میں خوف پیدا ہو گیا۔
غزوہء بدر میں شجاعت
B.ad
غزوہء بدر میں حضرت حمزہؓ نے کمال بہادری دکھائی۔ ان کی پہچان کے لیے انہوں نے اپنی ذرہ پر شتر مرغ کا ایک پر باندھا ہوا تھا۔ وہ دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور کئی کفار کو جہنم واصل کیا۔ ان کی تلوار بجلی کی طرح چلتی تھی، اور ان کی بہادری دیکھ کر مسلمان اور بھی پُرجوش ہو گئے۔
شہادت اور بہادری کی آخری مثال
B.ad
غزوہء اُحد میں حضرت حمزہ نے کفار کے بڑے بڑے جنگجوؤں کو زیر کیا۔ لیکن افسوس کہ وحشی بن حرب نے چھپکے سے اپنی نیزہ سے حضرت حمزہ کو نشانہ بنایا اور حضرت حمزہ کو شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد بھی ان کی لاش کی بے حرمتی کی گئی، مگر ان کی بہادری اور قربانی کو تاریخ کبھی نہیں بھول سکتی۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کی شہادت کا بے حد دکھ ہوا اور آپ نے حضرت حمزہ کو "سید الشہداء" یعنی شہداء کا سردار قرار دیا۔


No comments:
Post a Comment