حضرت بلالؓ اسلام کے ابتدائی ماننے والوں میں سے تھے اور آپ حبشہ کے رہنے والے ایک غلام تھے۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ کے مالک امیہ بن خلف نے آپ پر سخت ظلم و ستم ڈھایا۔ انہیں مکہ کی جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تاکہ وہ اسلام سے دستبردار ہو جائیں، مگر حضرت بلالؓ کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ ہر بار وہ صبر سے کام لیتے اور صرف "احد، احد" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) پکارتے رہتے۔
B.ad
ایک دن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے امیہ بن خلف سے کہا کہ وہ حضرت بلالؓ کو آزاد کردیں اور ان کے بدلے میں جو قیمت چاہیں لے لیں۔ امیہ نے زیادہ قیمت طلب کی، مگر حضرت ابو بکرؓ نے بلا جھجک رقم دے کر حضرت بلالؓ کو آزاد کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف اسلام کی حقانیت کا ثبوت ہے بلکہ اس میں حضرت بلالؓ کی صبر و استقامت اور حضرت ابو بکرؓ کی سخاوت کی بھی جھلک ملتی ہے۔
B.ad
حضرت بلالؓ کو بعد میں نبی کریم ﷺ نے مؤذن مقرر فرمایا اور وہ قیامت تک کے لیے اسلامی تاریخ کے پہلے مؤذن کے طور پر مشہور ہوگئے۔ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت بلالؓ مدینہ میں اذان دینے سے قاصر ہوگئے کیونکہ ہر بار اذان میں "اشہد ان محمدًا رسول اللہ" کہتے ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ بعد میں حضرت بلالؓ نے شام کی طرف ہجرت کر لی اور وہیں وفات پائی۔
B.ad
یہ واقعہ حضرت بلالؓ کے ایمان، استقامت اور اللہ کے ساتھ ان کی محبت کی ایک بہترین مثال ہے۔

No comments:
Post a Comment